Aid Islam LogoAid Islam

اردو آرٹیکل

اسلام میں صبر کی اہمیت
تقریباً ۱۵ منٹ پڑھیں
ایمان، طرز زندگی، قرآن، صبر
قلم

صبر، اسلام میں سب سے بنیادی اور اہم خوبیوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک مسلمان کے ایمان اور کردار کا سنگ بنیاد ہے، جس کا ذکر قرآن اور پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات (احادیث) میں 90 سے زیادہ مرتبہ آیا ہے۔ صبر کا مطلب صرف خاموشی سے دکھ برداشت کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ مشکل وقت میں بھی اللہ پر بھروسہ قائم رکھنا، صحیح راستے پر قائم رہنا اور مثبت رویہ اپنانا ہے۔

قرآن کا نقطہ نظر: صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہے

قرآن بار بار صبر سے منسلک انعامات اور خوبیوں پر زور دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، جو ایک مومن کے لیے سب سے بڑی تسلی ہے۔

"اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد مانگو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" (قرآن 2:153)

اللہ کا ساتھ ہونے کا مطلب ہے کہ وہ انہیں حمایت، رہنمائی اور بالآخر کامیابی عطا فرمائے گا۔ صبر کو ایمان کا نصف حصہ کہا گیا ہے، جو اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

صبر کی اقسام: زندگی کے ہر پہلو میں صبر

اسلامی علماء نے صبر کو بنیادی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا ہے، جو ایک مسلمان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں:

  1. اللہ کی اطاعت پر صبر: اس کا مطلب ہے اللہ کے احکامات پر عمل کرنے میں ثابت قدم رہنا۔ جیسے، باقاعدگی سے نماز پڑھنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور زکوٰۃ دینا، چاہے یہ مشکل لگے یا دل میں سستی آئے۔ عبادت میں تسلسل کے لیے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔
  2. اللہ کی نافرمانی سے بچنے پر صبر: یہ وہ صبر ہے جو گناہوں اور آزمائشوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ اپنی خواہشات (نفس) اور شیطان کے وسوسوں کے خلاف ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ آج کے معاشرے میں جہاں برائی عام ہے، اس قسم کا صبر بہت اہم ہے۔
  3. اللہ کی طرف سے آئی مشکلات اور آزمائشوں پر صبر: اس میں بیماری، مال کا نقصان، کسی عزیز کی موت یا کسی بھی قسم کی تکلیف جیسی آزمائشوں کو اللہ کا فیصلہ مان کر بغیر شکایت کے برداشت کرنا شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان غمگین نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ غم میں بھی وہ اللہ سے ناامید نہ ہو اور اپنا ایمان نہ کھوئے۔

صبر کا انعام: بے حساب اجر

صبر کا انعام بہت بڑا اور بے حساب ہے۔ جبکہ بہت سے نیک اعمال کا اجر مخصوص ہے، اللہ صبر کے اجر کو "بغیر حساب" کے طور پر بیان کرتا ہے۔

"...بے شک، صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا۔" (قرآن 39:10)

یہ ظاہر کرتا ہے کہ اجر اتنا وسیع اور فراخ ہے کہ اسے شمار نہیں کیا جا سکتا۔ صبر جنت کی کنجی ہے۔ پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "اللہ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے، تو انہیں آزماتا ہے۔ جو کوئی (اس آزمائش پر) راضی رہا، تو اس کے لیے (اللہ کی) رضا ہے، اور جو کوئی ناراض ہوا، تو اس کے لیے ناراضگی ہے۔" (ترمذی)

اس کا مطلب ہے کہ مشکلات اللہ کی محبت کی نشانی ہو سکتی ہیں، اور ان پر صبر کرنا اللہ کی خوشنودی کا باعث بنتا ہے۔

صبر کیسے حاصل کریں؟

صبر ایک ایسی خوبی ہے جسے پیدا کیا جا سکتا ہے۔ یہاں کچھ طریقے دیے گئے ہیں:

  • اللہ کی قدرت اور حکمت کو یاد کرنا: یہ سمجھنا کہ ہر چیز اللہ کے کنٹرول میں ہے اور اس کی ہر योजना میں کوئی نہ کوئی بھلائی چھپی ہوتی ہے، بھلے ہی ہم اسے فوراً نہ سمجھ پائیں۔
  • دعا کرنا: اللہ سے صبر اور ثابت قدمی کے لیے دعا مانگنا۔
  • انبیاء کی کہانیوں پر غور کرنا: قرآن میں انبیاء (علیہم السلام) کی کہانیاں صبر کی بہترین مثالوں سے بھری ہیں، جیسے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا بیماری پر صبر، حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بھائیوں کے دھوکے اور قید پر صبر، اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکہ والوں کے ظلم پر صبر۔
  • روزہ رکھنا: روزہ رکھنے سے انسان کو اپنی خواہشات پر قابو پانے اور صبر کرنے کی تربیت ملتی ہے۔

نتیجہ

صبر استعفیٰ کی ایک غیر فعال حالت نہیں ہے؛ بلکہ یہ عبادت کی ایک فعال، باشعور اور بہادر شکل ہے۔ یہ نیکی کرتے رہنے، برائی سے بچنے اور غیر متزلزل ایمان کے ساتھ زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کی طاقت ہے۔ صبر کو اپنا کر، ایک مومن نہ صرف اس دنیا کی مشکلات کو وقار کے ساتھ پار کرتا ہے، بلکہ آخرت میں ایک بے پناہ اجر بھی یقینی بناتا ہے۔ یہ ایک مسلمان کے کردار کو خوبصورت بناتا ہے اور اسے اللہ کے قریب لے جاتا ہے۔